ایران کے وزیرخارجہ منوچہر متکی نے یورپی یونین کے موجودہ سربراہ ملک سوئيڈن، کے وزیرخارجہ کال بیلد سے ملاقات میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی صورت میں پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے کے سلسلے میں اپنے قانونی حقوق سے پیچھے نہيں ہٹے گا۔ایران کے وزیرخارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کیلئے گروپ بیس کے اجلاس سے قبل ، معینہ مدت سے بھی پہلے آئی اے ای اے کو یورے نیم کی افزودگی کیلئے اپنے دوسرے ایٹمی پلانٹ سے باخبر کردیا تھا لہذابعض یورپی ملکوں کا موقف باعث حیرت ہے۔اس موقع پر سوئيڈن کے وزیرخارجہ کارل بیلد نے ایران کے پیکج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنیوا اجلاس طرفین کے درمیان گفتگو شروع کرنے اور مختلف میدانوں میں ایران ویورپی یونین کے درمیان جامع تعاون کو فروغ دینے کیلئے زمین ہموارکرسکتاہے۔دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ منوچہر متکی نے اقتصادی تعاون کی تنظیم ای سی او کے پروگراموں کوآگے بڑھانے پر تاکید کی ہے ۔ ہمارے نمائندے کی رپورٹ کےمطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس کے موقع پر منوچہرمتکی کی زیرصدارت ہونے والے ای سی او کے اس اجلاس میں ای سی او کے نئے جنرل سکریٹری محمد یحیی معروفی نے اس تنظیم کے گذشتہ اور موجودہ پروگراموں اورتجارت ، نقل وحمل ، انرجی ، زراعت اور خارجہ تعلقات کے بارے میں تازہ ترین نتائج پر روشنی ڈالی۔اسلامی جمہوریہ ایران ،افغانستان ، آذربائيجان ترکمنستان قرقیزستان پاکستان ترکی قزاقستان ازبکستان اور تاجکستان ای سی او کے رکن ممالک ہیں۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 168181
وزیرخارجہ منوچہرمتکی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے پیکج پیش کرکے مذاکرات کیلئے اپنا مثبت رویہ ثابت کرکے دکھایا ہے۔